دلہا کے ہاتھوں پر مہندی لگانا کیسا ہے؟ اور کیا مردوں کے لئے زعفرانی رنگ کا استعمال جائز ہے؟

سوال
دلہا کے ہاتھوں پر مہندی لگانا کیسا ہے؟
اور کیا مردوں کے لئے زعفرانی رنگ کا استعمال جائز ہے؟

جواب…!
الحمدللہ۔۔۔۔!!

🌷عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کہ
”مرد کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کی مہک پھیلے اور اس کا رنگ چھپا رہے، اور عورتوں کی بہترین خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو چھپی رہے“
(سنن ترمذی،حدیث نمبر_2788)

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں،

🌷ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی مہک پھیل رہی ہو اور رنگ چھپا ہوا ہو اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو لیکن مہک اس کی چھپی ہوئی ہو“
(سنن ترمذی، حدیث نمبر_2787)
سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_2174)
(سنن نسائی،حدیث نمبر_5121)

وضاحت_
مطلب مرد ایسی خوشبو لگائیں جسکی بو ہو اور رنگ نا ہو جیسے، عطر اور عود وغیرہ،
اور عورتیں ایسی خوشبو لگائیں جسکا رنگ ہو مگر خوشبو نا ہو مثلاً زعفران اور مہندی وغیرہ،

کیونکہ ہاتھوں پر مہندی،رنگ وغیرہ لگانا عورتوں کا خاصہ ہے لہذا مردوں کو عورتوں کی مشابہت سے بچنا چاہیے کیونکہ،

🌷فرمان نبویﷺ ہے۔۔!!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت بھیجی جو عورتوں جیسا چال چلن اختیار کریں اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_5885)

🌷🌷پہلے مردوں کے لئے بھی زعفران کا استعمال جائز تھا جیسا کہ ایک حدیث میں ذکر آتا ہے،

🌷نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کا جوتا پہنتے اور اپنی داڑھی ورس اور زعفران سے پیلی کرتے تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے
(سنن نسائی،حدیث نمبر_5256)

اور ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں،

🌷زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی داڑھی خلوق سے پیلی کرتے تھے،
میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن!
آپ اپنی ڈاڑھی خلوق سے پیلی کرتے ہیں؟
انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس سے اپنی ڈاڑھی پیلی کرتے تھے، اور کوئی بھی رنگ آپ کو اس سے زیادہ پسند نہیں تھا، آپ اس سے اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ اپنی پگڑی بھی رنگتے تھے
(سنن نسائی،حدیث نمبر_5088)
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_4064)

وضاحت_
خلوق ایک قسم کی خوشبو ہے جو کئی چیزوں سے بنتی ہے، اس میں ورس اور زعفران بھی شامل ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کو پیلے رنگ کی اجازت منسوخ ہو جانے کی خبر نہیں مل سکی تھی، پیلا رنگ عورتوں کا رنگ ہونے کے سبب مردوں کے لیے منسوخ کر دیا گیا تھا،
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد میں مردوں کو زعفرانی رنگ لگانے سے روک دیا،

جیسا کہ بخاری ،مسلم اور باقی احادیث کی کتابوں میں یہ بات درج ہے،

🌷عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ، میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹ گئے تھے، تو انہوں نے میرے ( ہاتھوں پر ) زعفران مل دیا، صبح کو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا اور فرمایا:
جاؤ اسے دھو ڈالو ۔
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_4601_حسن)
سند میں عطا خراسانی حافظہ کے کمزور راوی ہیں مگر متابعات اور شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہے،

🌷انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ،
🌷نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں کو ) زعفرانی رنگ کے استعمال سے منع فرمایا ہے،
( مردوں کے لیے زعفران کے استعمال کی کراہت کا مطلب یہ ہے کہ مرد زعفران کی خوشبو نہ لگائیں۔ )
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_5846)
(سنن ترمذی،حدیث نمبر_2815)

🌷حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے,
زعفران میں رنگا ہوا لباس پہننے سے منع فرمایا، قتیبہ، حماد سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں یعنی مردوں کے لئے۔
(صحیح مسلم،حدیث نمبر_2101)
(مسند احمد_حدیث نمبر_12942)

🌷انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ,
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جس پر زرد رنگ تھا ،
تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ناپسند کیا اور اپنے بعض صحابہ کرام سے فرمایا تم نے اسے یہ رنگ دھونے کا کیوں نہیں کہا؟
آپ نے دو یا تین بار ایسا فرمایا،
(مسند احمد، حدیث نمبر_12573_حسن)

لہذا_ مردوں کے لئے زعفران کی خوشبو یا اسکا رنگ کپڑوں پر لگانا بالکل منع ہے،

🌷🌷زعفرانی رنگ کی مردوں کے لئے جائز ہونے کی ایک روایت یہ پیش کی جاتی کہ،

🌷رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر زعفران کا اثر دیکھا تو پوچھا: یہ کیا ہے؟
انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے، پوچھا: اسے کتنا مہر دیا ہے؟
جواب دیا: گٹھلی کے برابر سونا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو،
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_2109)

اس حدیث میں یہ نہیں ہے کہ انہوں نے زعفران لگائی بلکہ یہ ہے کہ ان کے اوپر زعفران کا اثر تھا،
یعنی بدن یا کپڑوں پر کسی جگہ زعفران لگی تھی،
اور چونکہ مردوں کے لئے زعفران لگانا درست نہیں تھا ،اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے؟
تو انہوں نے بتایا کہ میں نے شادی کر لی،
یعنی دلہن کے کپڑے سے مس ہونے کی وجہ سے زعفران کا رنگ ان پر بھی لگ گیا،

🌷🌷اگرچہ اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے ،
مگر اختلافات سے بچتے ہوئے حق بات یہی ہے کہ مردوں کہ لیے زعفرانی خوشبو اور رنگ لگانا منع ہے،
یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ
مردوں کے لئے زعفران کی ممانعت بدن اور کپڑے پر لگانے میں ہے،
البتہ کھانے پینے کی چیزوں میں زعفران کی ممانعت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غیرمسلم کے ساتھ اس کے گھر کھانہ کھانا کیسا ہے

أم معبد رضي الله عنها كى بکری سے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دلچسپ معجزہ