تین طلاق کےبعدبچی پیداھوئ اورعورت نےدوسرےسےشادی کی توبچی ثابت النسب ھوگی؟اورحق پرورش کسکوھے

تین طلاق کےبعدبچی پیداھوئ اورعورت نےدوسرےسےشادی کی توبچی ثابت النسب ھوگی؟اورحق پرورش کسکوھے

*سوال:*
ہندہ کو اسکے شوہر نے تینوں طلاق دے دیا اسکے بعد ہندہ اپنے ماں کے گھر جانے لگی تو اسکے شوہر اور گھر والوں نے اس سے کہا کہ غصہ میں طلاق نہیں ہوتی اسی لئے طلاق نہیں ہوئی تم میرے ساتھ ہی رہو اس طرح سے ہندہ کو روک لیا اور اب ہندہ ساتھ بھی رہنے لگی اسی دوران اسے ایک بچی بھی ہوئی کافی دن بعد ہندہ کو معلوم ہوا کہ غصہ میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے اور اسکو پہلے ہی طلاق مل چکی تھی وہ بھی تینوں تو اب ہندہ  اس سے دور ہو گئی کچھ سال الگ رہنے کے بعد ہندہ نے دوسری شادی بھی کرلی اور ہندی ابھی دوسرے والے شوہر کے ساتھ ہی ہے
تو ہندہ کے پہلے شوہر سے طلاق کے بعد جو بچی ہوئی وہ ولد الزنا کہلائےگی؟؟
اس بچی کو ولد النسب کہا جائےگا؟؟
اس بچی کا نسب کس سے جوڑا جاۓ گا
اس بچی کا کس کے ساتھ رہنا بہتر ہے
حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں
*سائل:حافظ توحید عالم اشرفی پٹنہ بہار*

*🚿الجواب بعون الملک الوہاب*
صورت مسؤلہ میں اگرہنوز دوبرس نہ گزرے کہ بچی ہوگئ تھی یادوبرس کے بعد ہوئ اورشوہر نے اقرار کیا کہ یہ میری بچی ہے توبھی بچی اسی کی ھے لہذا اگریہی صورت ھے تو اس بچی کانسب ثابت ھےاور اسکو ولیدۃ الزنا نہیں کہاجاےگا اور اگربچی نوسال سےکم کی ھے اورعورت کی شادی بچی کی غیرمحرم سےھوئ ھے تو بچی نوسال کی عمر تک سگی نانی یادادی کےیہاں رہےگی اسکےبعدباپ کےیہاں رہےگی

درمختارمیں ھے:
*یثبت بلادعوۃ احتیاطا فی مبتوتۃ جاءت بہ لاقل منھما من وقت الطلاق لجواز وجودہ وقتہ ولم تقر بمضیہا وان لتمامھما لایثبت النسب و قیل یثبت، وزعم فی الجوھرۃ انہ الصواب الا بدعوتہ لانہ التزمہ الخ ملخصا۔*
بغیر دعوی کے احتیاطا بائنہ طلاق والی کے بچے کانسب ثابت ہوتاہے جبکہ وہ طلاق کے وقت سے دوسال سے کم مدت میں بچہ جنے کیونکہ بوقت طلاق حمل کے موجود ہونے کا امکان ہے اور عورت نے عدت کے گزرنے کا اقرار نہیں کیا اور اگروہ پورے دوسال پربچہ جنے تونسب ثابت نہیں ہوگا اور کہاگیاہے کہ ثابت ہوجائے گا، جوھرہ میں گمان کیاکہ یہی درست ہے مگرجب شوہر دعوی کرے تو نسب ثابت ہوجائے گا کیونکہ شوہر نے اس کا التزام اپنے اوپرکرلیا الخ ملخصا۔
*📚درمع الردج5ص232-231زکریا*
*📚ایساہی فتاوی رضویہ قدیم جلد5ص866پربھی ھے*

درمختار میں ہے:
*الحاضنۃ یسقط حقھا بنکاح غیر محرم الصغیر۔*
پرورش کرنے والی کا حق ساقط ہوجاتا ہے جب وہ بچے کے غیرمحرم سے نکاح کرلے۔

اسی میں ہے:
*ثم بعد الام ان ماتت اوتزوجت باجنبی ام الام وان علت ثم ام الاب اھ مختصرا*
ماں فوت ہوجائے یا بچے کے اجنبی سے نکاح کرلے تو پھر نانی کو حق ہے خواہ اوپر والی ہو، پھر دادی کو حق ہے۔مختصرا
*📚ج5ص266-262*
*📚ایساہی فتاوی رضویہ قدیم جلد5ص886-883پربھی ھے*

درمختارمیں ھے:
*احق بہاحتی تشتہی وقدربتسع وبہ یفتی*
ماں لڑکی کی حقدار ہے جب تک
لڑکی مشتہاۃ نہ ھوجاےجس کا اندازہ نوسال کی عمر ہے اور اسی پر فتوی دیاجائیگا،

ردالمحتارمیں ھے:
*فی الفتح یجبر الاب علی اخذ الولد بعد استغنائہ عن الام*
فتح سے منقول ہے کہ والد کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ بچے کوماں کی نگرانی سے مستغنی ہوجانے کے بعد اپنی تحویل میں لے لے۔
*درمختارمع ردالمحتار*
*ج5ص268زکریابکڈپو*

*📚نیزان سب کی تفصیل بہارشریعت حصہ ہشتم ثبوت نسب اورپرورش کےبیان میں ھے*

واللہ تعالی اعلم بالصواب

*ازقلم:عطامحمدمشاھدی عفی عنہ خادم دارالعلوم حشمت* *الرضاپیلی بھیت شریف یوپی*
*7مارچ2019عیسوی
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غیرمسلم کے ساتھ اس کے گھر کھانہ کھانا کیسا ہے

أم معبد رضي الله عنها كى بکری سے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دلچسپ معجزہ