پتنجلی کی چزیں استعمال کرنا
پتنجلی کی چزیں استعمال کرنا
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ؛
*سوال:*
*بابا رام دیو کی کمپنی پتنجلی کی چیزیں استعمال کرسکتے ؟*
*بہت سے بولتے وہ گائے پیشاب یوز کرتے...*
*رھنمائی فرمائیں*
*+91 9028121469*
ا✉✉✉✉✉✉✉✉✉✉
ا======================؛
*الشروع فی الجواب بتوفیق الوہاب؛*
*صورت مسؤلہ میں جبتک یقین کےساتھ معلوم نہ ہوکہ اسکی تیارکردہ اشیاءمیں حرام ونجس چیزملاتےہیں شریعت مطہرہ اسکی طہارت وحلت کاحکم دیتی ھے کہ اصل اشیاءمیں طہارت وحلت وھے البتہ اگرکچھ شبہ میں ڈالنےوالی بات ھےتواس طرح کی اشیاءکواستعمال کرنےسےبچنابہترھے؛*
*جیساکہ امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت قدس سرہ فرماتےہیں؛*
*,,اصل اشیاء میں طہارت وحلت ہے جب تک تحقیق نہ ہو کہ اس میں کوئی ناپاک یا حرام چیز ملی ہے محض شبہہ پر نجس وناجائز نہیں کہہ سکتے۔*
*(📚ردالمحتارمیں ہے :لایحکم بنجاستھا قبل العلم بحقیقتھا)*
*حقیقت حال معلوم ہونے سے پہلے اشیاء کی نجاست کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا*
*اسی میں ہے :*
*فی التاتارخانیۃ من شک فی انائہ اوثوبہ اوبدنہ اصابتہ نجاسۃ او لافھو طاھر مالم یستیقن وکذا الابار والحیاض والحباب الموضوعۃ فی الطرقات ویستقی منھا الصفار والمسلمون والکفار وکذا مایتخذہ اھل الشرک اوالجھلۃ من المسلمین کالسمن والخبز والاطعمۃ والثیاب اھ ملخصا۔*
*تاتارخانیہ میں مذکور ہے کہ اگر کسی شخص کو اپنے جس، لباس یا برتن کے بارے میں شک ہو کہ آیا وہ ناپاک ہیں یا نہیں تو جب تک اس کا شک یقین کی حدتک نہ پہنچے وہ پاک ہی تصور ہوں گے اور یہی حکم ہے کنووں، تالابوں اور گھڑوں کے بارے میں جو راہوں میں رکھے گئے ہوں اور مسلمان، کافر،* *چھوٹے بڑے سب ان سے سیراب ہوتے ہوں اسی طرح مشرکین وکفار اور جاہل وناواقف مسلمانوں کی تیار کردہ اشیائے خوردو نوش کاحکم ہے؛*
*ہاں اگر کچھ شبہہ ڈالنے والی خبر سن کر احتیاط کرے تو بہتر ہےلقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کیف وقدقیل،،،*
*(📚فتاوی رضویہ جلدنہم*
*ص.79نصف اول رضااکیڈمی)*
*(فائدہ:)*
*(📚مزیدتفصیل کےلےسیدی اعلی حضرت کارسالہ (الاحلی من السکر)ملاحظہ ہو:جس کےابتدامیں دس مقدمات جلیلہ ھے جسکافائدہ خود سیدی اعلی حضرت رسالہ کےانتہاءمیں فرماتےہیں:)*
*تنبیہ:فقیر غفراللہ تعالی لہ نے ان مقدمات عشرہ میں جو مسائل ودلائل تقریر کیے جو انہیں اچھی طرح سمجھ لیا ہے اس قسم کے تمام جزئیات مثلا بسکٹ، نان پاؤ رنگت کی پڑیوں، یورپ کے آئے ہوئے دودھ، مکھن، صابون، مٹھائیوں وغیرہا کا حکم خود جان سکتا ہے۔ غرض ہر جگہ کیفیت خبر وحالت مخبر وحاصل واقعہ وطریقہ مداخلت حرام ونجس وتفرقہ ظن ویقین ومدارج ظنون وملاحظہ ضابطہ کلیہ ومسالک ورع ومدارات خلق وغیرہا امور مذکورہ کی تنقیح ومراعات کرلیں پھر ان شاء اللہ تعالی کوئی جزئیہ ایسا نہ نکلے گا جس کا حکم تقاریرسابقہ سے واضح نہ ہوجائے۔*
*(📚فتاوی رضویہ جلددوم*
*ص.125رضااکیڈمی ممبئ)*
*واللہ تعالی اعلم بالصواب؛*
ا✉✉✉✉✉✉✉✉✉✉
ا======================؛
*کتبــــہ؛*
*حضرت علامہ مفتی عطامحــمد مشـــاھـــدی صاحب قبـــلہ مدظلہ العـــالی والنـــورانی صدر شعبئہ افتـــاء دارالعلوم حشمت الرضا پیلی بھیت شریف یوپی الھند؛
*مورخہ؛۲۵/۷/۱۴۳۹ رجب المرجب/12/4/2018اپریل
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
comment