عدت کے حالت میں بوجہ مجبوری نوکری کرسکتی ہے کہ نہیں—؟
عدت کے حالت میں بوجہ مجبوری نوکری کرسکتی ہے کہ نہیں—؟
ایک اہم مسؑلہ۔ایک عورت کا شوہر انتقال کرگیاجوعرصؑہ دراز سے بیمار تھا جس کی وجہ سے عورت کما کر گھرچلاتی تھی گھربھی کراےؑ کا ہے اگر عورت عدّت میں بیٹھتی ہے توگھرمیں اخراجات کا مسؑلہ ہے ایسی صورت میں عورت کیا کرے عدت میں فاقہ کرے یا عدت نہ کرکے کما کر گھرچلاےؑ اس کے تین چاربچّے بھی ہیں؟
*🔹سائل عبدالقدوس🔹*
ــــــــــــــــــــــــــــــ
*📝الجواب بعون الوہاب!!!*
📃صورت مسئولہ میں سب سے پہلے یہ بات جان لیں کہ تاختم عدت عورت کا اسی مکان میں رہنا واجب باہر نکلنا جائز نہیں ہے—
*🏷البتہ ان چیزوں کی تحصیل میں باہر نکلنے کی ضرورت ہے کہ بغیر اسکے خوردنوش کا سامان گھر میں بیٹھے نہیں کرسکتی تو وہ صبح شام باہر نکلیں اور رات اسی گھر میں گذارے*
📙چنانچہ درمختار باب الحداد جلد اول مطبع مجتبائی میں ہے کہ—
*📿معتدۃ موت تخرج فی الحدیدین وتبیت اکثر اللیل فی منزلھا لان نفقتہا علیھا فتحتاج للخروج حتی لو کان عندھا کفایتہا صارت کالمطلقۃ فلا یحللہا الخروج فتح اھ*
*اقول فکذا اذا قدرت علی الکسب فی البیت من دون خروج فان المبیح ھی بالضرورۃ فبحیث لا ضرورۃ فلا اباحۃ وھذا واضح جدا—*
📃یعنی موت کی عدت والی عورت ضرورت پر دن میں اور رات میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے اور رات کا اکثر حصہ اپنے گھر میں ہی رہے کیونکہ اسے اپنا خرچہ خود پورا کرنا ہے اس لئے وہ باہر نکلنے کے لئے محتاج ہے حتی کہ اپنی کفایت اور ضرورت کے لئے اسکے پاس نفقہ ہو تو یہ مطلقہ عورت کی طرح ہے اسے باہر نکلنا حلال نہیں ہے فتح اھ—
*📄میں کہتا ہوں یونہی اگر وہ گھر میں رہ کر کوئی محنت کرکے اپنا خرچہ بناسکتی ہے تو نکلنا حلال نہ ہوگا کیونکہ اسکا باہر نکلنا ضرورت کی بناء پر جائز ہوا ہے اور جب ضرورت نہیں تو حلال بھی نہیں اور یہ تو واضح ہے*
*📘مزید تفصیل کیلیے فتاویٰ رضویہ جلد ۱۳ صفحہ ۳۲۷ مطالعہ کریں"*
*🌹و اللہ اعلم بالصواب!!! 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــ
*📝کتبـــــــــــــــــــــــہ ؛*
*حضرت علامہ مفتی مظہر علی رضوی صاحب قبلہ؛ (مدظلہ العالی و النورانی) خادم مدرسہ غوثیہ حبیبہ؛ بریل؛ دربھنگہ؛ بہار؛ الہند
تاریخ؛ 8/مارچ ؛2019ء
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
comment