بعدِ دفن قبر پر پانی چھڑکنے کی کیا حکمت ہے ؟
بعدِ دفن قبر پر پانی چھڑکنے کی کیا حکمت ہے
؟
الســــلام علیکم علمائے کرام کی بارگاہ میں سوال ھیکہ میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر پانی کیوں ڈالتے ہیں اس سے میت کو کیا فائدہ ہوتا ہے مدلل ومفصل جواب سے نوازیں کرم ہوگا
🌹المستفتی🌹عبدالکلام نوری
*وعلیکم السلام ورحمةالله وبرکاتہ*
*✍الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ہدایتہ الحق والصواب؛ صورت مسئولہ میں عرض ہے کہ حدیث شریف میں ہے کہ" عن جعفر بن محمد عن ابیہ مرسلا ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم حثی علی المیت ثلث حثیثات بیدیہ جمیعا وانہ رش علی قبر ابنہ ابراھیم ووضع علیہ خصباء رواہ فی شرح السنتہ و روی الشافعی من قولہ رش ــ*
*( مرات شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ۲ صفحہ ٤٩٣ / ٤٩٤ )*
*🏷یعنی روایت ہے حضرت جعفر بن محمد سے وہ اپنے باپ رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے مرسلا راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میت پر دونوں ہاتھوں سے تین لپ ڈالے اور اپنے فرزند ابراہیم کی قبر پر چھڑکاؤ کیا اور اس پر کنکر بچھائے ــ*
*📄شرح السنہ اور امام شافعی نے رش سے روایت کیا" اس حدیث شریف کے تحت مفسر قرآن حکیم الامت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ" علمائے کرام فرماتے ہیں کہ بعد دفن قبر پر ٹھنڈا اور پاک پانی چھڑکے نیک فال کے لئے کہ اللہ تعالیٰ میت کو پاک اور قبر کو ٹھنڈا کرے ــ*
*🌹؛واللـه تعالی اعلم؛🌹*
ـــــــــــــــــــ
*✍ازقـــــلم؛ حضــرت علامہ مفتـی*
*محمـد جعفـر علـی صدیقی رضوی*
*کرلوسکر واڑی سانگلی مہاراشٹر ۱ / ۱ / ۱۴۴۰ھ امام اعظم گروپ ایڈ کیلئے*
*+91 85 30 587825☎
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
comment