شب برأت مغفرت کی رات نیز اس میں کیے جانے والے نیک اعمال حقیقت کے آئینے میں

شب برأت مغفرت کی رات نیز اس میں کیے جانے والے نیک اعمال حقیقت کے آئینے میں

                                   🌹  *قسط دوم*🌹

*🌹شب برأت میں زیارتِ قبور کا ثبوت :*
    توبہ و استغفار کی طرف مائل کرنے والا عمل، یاد آخرت کو تازہ کرنے والا کام، سنت نبوی پر عمل پیرا ہونے کے لیے غلامان رسول مقبول ﷺ اور بندگان خدا شب برأت میں قبرستان جاتے ہیں اور اپنے دلوں میں خود  احکام شریعت کو پروان چڑھاتے ہوئے مسلمان مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں. جو کہ بلا شبہ جائز و مستحسن ہے. کیونکہ یاد آخرت کو تازہ کرنے کے لیے خود ہمارے آقا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جانے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :
*”کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور ألا فزوروھا ۔ (یعنی) میں نے قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، سن لو اب ان کی زیارت کرو۔ (سنن ابن ماجہ، ابواب الجنائز)*
بالخصوص پندرہویں شعبان میں معلم انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم خود بقیع پاک (قبرستان) میں تشریف لے جاتے ہیں، جیسا کہ ترمذی شریف کی روایت ہے :
*عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَخَرَجْتُ أطلبه ، فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ رَافِعٌ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : یا عائشة أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ ؟  ، قَالَتْ : قد قُلْتُ : ما بذالك و لکني ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعَرِ غَنَمِ كَلْبٍ - (یعنی) حضرت عائشه رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: میں نے ایک رات حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو نہیں پایا، میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو تلاش کرنے لگی، تو بقیع میں آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا، حضور علیہ الصلاۃ والسلام اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیے ھوئے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! کیا تو اس کا خوف کرتی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کرے؟  حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یہ نہیں، بلکہ میں نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی زوجہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں، حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: بےشک اللہ تعالی پندرہویں شعبان کی رات میں آسمان دینا پر تجلی فرماتا ہے تو بنی کلب کی بکریوں کے تعداد سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے - (رواه أحمد، الحدیث : ٢٦٠١٨، و الترمذي الحديث : ٧٣٦، وابن ماجه، الحديث : ١٣٨٩)*

*🌹بالخصوص پندرہویں شعبان کو روزہ رکھنے کی فضیلت :*
حضرت سیدناعلی المرتضیٰ شیر خدا کرم اللّٰہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : *”جب پندرہ شعبان کی رات آئے تواس میں قیام (یعنی عبادت ) کرو اور دن میں روزے رکھو۔ بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ غروب آفتاب سے آسمان دنیاپرخاص تجلی فرماتاہےاورارشادفرماتاہے: ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا کہ اسے بخش دوں !*
*ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کہ اسے روزی دوں !*
*ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اسے عافیت عطاکروں !*
*ہے کوئی ایسا! ہے کوئی ویسا!اوریہ اس وقت تک فرماتاہے جب تک کہ فجرطلوع نہ ہوجائے۔ (سنن ابن ماجہ، ج٢، ص١٦٠، حدیث١٣٨٨)“*
اسی لیے علماے کرام شعبان المعظم کے روزے کو امت محمدیہ کے لیے مستحب قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
*”المرغوبات من الصیام أنواع أولها صوم المحرم و الثانی صوم رجب و الثالث صوم شعبان و صوم عاشوراء (یعنی) مستحب روزوں کی کئ قسمیں ہیں : ان میں سے پہلا محرم الحرام روزے، دوسرا رجب المرجب روزے، تیسرا شعبان المعظم اور عاشورا کے روزے (فتاویٰ عالمگیری، ج: اول، ص: ٢٠٢)“*
🌹  *باطل فرقوں سے دور رہیں:*
مذکورہ احادیث و آثار سلف صالحین کی روشنی میں تمام متاخرین مشائخ و علما کا یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ”شعبان“ تمام ماہ میں ایک مختلف امتیاز کا حامل ہے اور بالخصوص” لیلة نصف شعبان“ یعنی شب برأت شعبان المعظم کی تمام راتوں میں ممتاز، نیز پندرہویں شعبان کا دن شعبان المعظم کے تمام دنوں میں معظم و ممتاز ہے.
اسی لیے عوام وخواص اس مبارک رات و دن کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں، اور ذکر واذکار ،تلاوت قرآن اور نفلی نماز روزے کے ذریعے اپنے نامۂ اعمال کو نیکیوں سے پر کرکے  اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں.
لیکن افسوس صد افسوس کہ اب یہ نیک مسلمان بھی ان شرک وکفر ساز باطل فرقوں کے زد پر آچکے ہیں. جو برصغیر میں افتراق بین المسلمین کے اصل ذمہ دار قرار پائے ہیں. چناں چہ ان کی ایک ٹیم خاص ان دنوں میں نیک اعمال سے روکنے کے لیے کوشاں رہتی ہے. اور بدعت، ضعیف، موضوع وغیرہ اپنے بڑوں کے سکھائے ہوئے مخصوص وظائف کے ذریعے اللہ تعالٰی کے ذکر وفکر اور نماز روزوں اور شب بیداری سے مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں.
قرآن مجید میں ہے :
*﴿وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَـٰجِدَ ٱللَّهِ أَن یُذۡكَرَ فِیهَا ٱسۡمُهُۥ وَسَعَىٰ فِی خَرَابِهَاۤۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ مَا كَانَ لَهُمۡ أَن یَدۡخُلُوهَاۤ إِلَّا خَاۤىِٕفِینَۚ لَهُمۡ فِی ٱلدُّنۡیَا خِزۡیࣱ وَلَهُمۡ فِی ٱلۡـَٔاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیمࣱ﴾ [البقرة ١١٤]*
*یعنی : اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں اور سجدہ گاہوں سے اس کے نام لیواؤں کو روکتا ہو، اور اس کے ویران کرنے کے درپے ہو. حالانکہ انھیں تو خود ہی خائف ولرزاں عبادت گاہوں میں داخل ہونا چاہیے تھا. ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے. اور آخرت میں بھی درناک عذاب منتظر ہے.*
مسلمانوں کو چاہیے کہ حسبِ سابق کارخیر انجام دیتے رہیں. اور اس طرح کے فرقوں کی خود ساختہ تحقیقات پر کان نہ دھریں.
*وماتوفیقی إلا باللہ علیہ توکلت وإلیہ أنیب.*

*✍🏻شہزادئی مفتی عبد المالک مصباحی چیف ایڈیٹر دوماہی رضائے مدینہ جمشید پور وڈایریکٹر دارین اکیڈمی جھارکھنڈ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غیرمسلم کے ساتھ اس کے گھر کھانہ کھانا کیسا ہے

أم معبد رضي الله عنها كى بکری سے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دلچسپ معجزہ