شب برأت مغفرت کی رات نیز اس میں کیے جانے والے نیک اعمال حقیقت کے آئینے میں          

شب برأت مغفرت کی رات نیز اس میں کیے جانے والے نیک اعمال حقیقت کے آئینے میں
                               
              🌹 قسط أول🌹                            
                                        
🌹شب برأت کی مغفرت و رحمت الہیہ کے حصول کے لیے تیاریاں شروع  :* برأت کا لغوی معنی”چھٹکارا، آزادی، بے زار“ کے آتے ہیں. اور اصطلاحی معنی یہ ہے کہ اس رات بدبخت لوگ اللہ تعالٰی سے بیزار ہوتے ہیں یعنی اس میں مصلب و بختہ ہو جاتے ہیں اور مؤمنین (سوائے چند لوگوں کے) گناہوں سے آزار و بے زار ہو جاتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا *” جب نصف شعبان کی رات (شب برأت) ہوتی ہے تو اللہ تعالٰی اپنی مخلوق پر نظر  کرتا ہے (متوجہ ہوتا ہے) مؤمنین کو بخش دیتا ہے، کافروں کو ڈھیل دیتا ہے اور کینہ رکھنے والے کو اس وقت تک چھوڑے رکھتا ہے جب تک وہ کینہ پروری سے باز نہ آ جائے (غنیة الطالبين، ص: ٣٤٧)“

    اسی طرح ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: *’’میرے پاس جبرئیل آئے اور یہ کہا: یہ شعبان کی پندرھویں  رات ہے، اس میں  ﷲ تعالیٰ جہنم سے اتنوں  کو آزاد فرماتا ہے جتنے بنی کلب کے بکریوں  کے بال ہیں ، مگر کافر اور عداوت والے اور رشتہ کاٹنے والے اور کپڑا لٹکانے والے اور والدین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کی مداومت کرنے والے کی طرف نظر رحمت نہیں  فرماتا۔ (الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان، الحدیث: ۵۶۳۶،  ج۷، ص۴۷۰۔)‘‘* 
   اسی لیے اس شب کو مؤمین کے لیے شب برأت کہا جاتا ہے یعنی گناہوں سے چھٹکارا کی رات کہا جاتا ہے.
لیکن....... یہ عظمت و فضیلت تمام مؤمنین کے لیے نہیں ہے جیسا کہ مذکورہ احادیث سے ثابت ہے لہٰذا جن بد نصیبوں کو ان کے اعمال بد کی وجہ سے اس بابرکات شب کی رحمت و برکت سے محرومی کی خبر دی گئی ہے انہیں چاہیے کہ اس رات کے آنے سے پہلے اپنے آپ کو رحمت و مغفرت الہیہ کے لیے تیار کر لیں نیز جن دو شخصوں میں کوئی دنیوی عداوت ہو تو اس رات کے آنے سے پہلے انہیں چاہیے کہ ہر ایک دوسرے سے مل جائے اور ہر ایک دوسرے کی خطا معاف کر دے تاکہ مغفرت الٰہی انہیں بھی شامل ہو، یوں ہی جس نے کسی مخلوق کو ناحق ستایا ہو یا اس کی حق تلفی کی ہو اسے بھی چاہیے اس بابرکت شب کے آنے سے پہلے ہی اپنے حقوق سے بری الذمہ ہو جائے اور جن جن کی دل شکنی کی ہے ان سے معافی مانگ لے تاکہ مغفرت الہیہ کا مستحق بن سکے -

*🌹شب برأت میں کثرت توبہ و استغفار :* مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں یہ بات تو واضح ہو گئی کہ اللہ رب العزت شب برأت میں اپنے بندوں کی مغفرت فرماتا ہے. لیکن یہ بھی جاننا بے حد ضروری ہے کہ گنہگاروں کو اس شب میں کیا عمل کرنا چاہیے جس سے رحمت خدا وندی اس کی طرف مائل ہو، اسی نقطے کی وضاحت کرتے ہوئے حضور اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: *”ﷲ عزوجل شعبان کی پندرھویں شب میں تجلّی فرماتا ہے، استغفار کرنے والوں  کو بخش دیتا ہے اور طالبِ رحمت پر رحم فرماتا ہے اور عداوت والوں  کو جس حال پر ہیں ، اسی پر چھوڑ دیتا ہے۔ (شعب الإیمان، الحدیث: ۳۸۳۵، ج۳، ص۳۸۲)‘‘*
   یعنی اس شب میں گنہگاروں کو چاہیے کہ اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرے اور رحمت خداوندی سے امید رکھتے ہوئے اپنے برے کرتوتوں کو یاد کر کے شرمسار ہو کر استغفار کرے. نیز طلب رحمت و مغفرت کے لیے سجدہ ریز ہو کر دعائیں مانگے. پھر ضرور اللہ رب العزت اپنے بندے کی دعاؤں کو اجابت سے سرفراز فرمائے گا اور انہیں بخشش و مغفرت سے ہمکنار فرمائے گا؛ کیونکہ اللہ رب العزت تو اس رات بعدِ غروبِ آفتاب ہی سے اعلان فرماتا ہے. اور اپنے بندوں سے مخاطب ہو کر پکارتا ہے:
”ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا جسے میں بخش دوں، ہے کوئی رحمت طلب کرنے والا جسے اپنی رحمت عطا کروں، ہے کوئی مغفرت کا طالب جس کے گناہوں کو بخش دوں یہی سلسلہ فجر تک جاری رہتا ہے“ فقط ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم گناہوں سے باز اور مغفرت کے طالب رہیں -

*🌹شب برأت اور نوافل کی کثرت :* اسی طرح اس رات میں کثرت نوافل کا اہتمام کریں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے، مولیٰ علی کرم ﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ نبی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
*’’جب شعبان کی پندرھویں رات آجائے تو اُس رات کو قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو کہ رب تبارک و تعالیٰ غروبِ آفتاب سے آسمان دنیا پر خاص تجلّی فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کہ ہے کوئی بخشش چاہنے والا کہ اسے بخش دوں ، ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کہ اُسے روزی دوں ، ہے کوئی مبتلا کہ اُسے عافیت دُوں ، ہے کوئی ایسا، ہے کوئی ایسا اور یہ اس وقت تک فرماتا ہے کہ فجر طلوع ہو جائے۔ (سنن ابن ماجہ، باب ماجاء في لیلۃ النصف من شعبان، الحدیث: ۱۳۸۸، ج۲، ص۱۶۰)*
      حضرت معاذ بن جبل رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہ فرماتے ہیں : *’’جو پانچ راتوں  میں  شب بیداری کرے اس کے لیے جنت واجب ہے، ذی الحجہ کی آٹھویں ، نویں ، دسویں  راتیں  اور عیدالفطر کی رات اور شعبان کی پندرھویں  رات ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ‘‘، الحدیث: ۱۷۸۲، ج۲، ص۳۶۵)*
انہیں احادیث کی بنا پر ہمارے اسلاف کرام نے پندرہویں شعبان کی شب میں شب بیداری نیز نوافل کی کثرت کو مستحب قرار دیا ہے، جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے قوت القلوب شریف کے حوالے سے نقل فرمایا ہے :  *” یستحب إحیاء خمس عشرۃ لیلة (إلی قوله) لیلة النصف من شعبان  وقد کانوا یصلون فی ھذہ  اللیلة مائة رکعة بالف مرۃ قل ھوﷲ احد، عشرا فی کل رکعۃ ویسمون ھذہ الصلٰوۃ صلٰوۃ الخیر ویتعرفون برکتھا ویجتمعون فیھا وربما صلوھا جماعة ۔“*
ترجمہ : پندرہ راتوں میں شب بیداری مستحب ہے. (آگے چل کرفرمایا) ان میں ایک شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہے کہ اس میں شب بیداررہنا مستحب ہے کہ اس میں مشائخ کرام سَو رکعت ہزار مرتبہ قل ھوﷲ احد کے ساتھ اداکرتے ہر رکعت میں دس دفعہ قل ھوﷲ احد پڑھتے ، اس نماز کانام انہوں نے صلٰوۃ الخیر رکھاتھا، اس کی برکت مسلمہ تھی، اس رات (یعنی پندرہ شعبان) میں اجتماع کرتے اور احیاناً نماز کوباجماعت اداکرتے تھے- *( قوت القلوب، فصل العشرون فی ذکراحیاء اللیالی، ،۱ /۶۲/ بحوالہ فتاویٰ رضویہ ،کتاب الصلوۃ ،جلد ٧،ص ٤١٩)*
    لہٰذا ہم سب کو چاہیے کہ شب برأت میں مذکور بالا طریقہ سے”صلوۃ الخیر“ ضرور ادا کریں کہ اس نماز کی بڑی فضیلت آئی ہے اس کا ثواب کثیر ہے - اسی نفل نماز یعنی”صلوة الخیر“ کی خیر و برکت اور ثواب کو واضح کرتے ہوئے سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرماتے ہیں :
  *”حضرت حسن بصری (رحمۃ اللہ علیہ) نے فرمایا کہ مجھ سے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے تیس صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے بیان کیا کہ اس رات کو جو شخص یہ نماز پڑھتا ہے اللہ تعالٰی ستر بار اس کی طرف دیکھتا ہے اور ہر بار کے دیکھنے میں ستر حاجتیں اس کی پوری کرتا ہے، جن میں سے سب سے ادنی حاجت اس کے گناہوں کی مغفرت ہے -“*
    اللہ، اللہ اتنی بڑی فضیلت جاننے کے بعد کون کم نصیب ہوگا جو اس نفل کو شب برأت میں ترک کرے گا، اللہ ہم سب کی تمام حاجات کو ان نوافل کے صدقے پوری فرمائے -

*✍🏻شہزادئ مفتی عبد المالک مصباحی چیف ایڈیٹر دوماہی رضائے مدینہ جمشید پور وڈایریکٹر دارین اکیڈمی جھارکھنڈ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غیرمسلم کے ساتھ اس کے گھر کھانہ کھانا کیسا ہے

أم معبد رضي الله عنها كى بکری سے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دلچسپ معجزہ