حمل ساقط کرنا کیسا

حمل ساقط کرنا کیسا

  ◆ــــــــــــــــــ✿🔰✿ـــــــــــــــــ◆

    🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

🔴السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ🔴

کیافرماتے ہیں علمائے کرام مفتیان کرام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں  کہ بچی ابھی چھوٹی ہے اور ڈیڑھ مہینے کا حمل ٹھہر گیا تو حمل گرانا کیسا ہے
  اس کا کیا حکم ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں؟

 
    🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

*سائل:   محمد جاوید رضوی ویراول گجرات *
------------------------------

  ◆ــــــــــــــــــ✿🔰✿ـــــــــــــــــ◆

*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

*الجواب بعون الملک الوہاب*

  ◆ــــــــــــــــــ✿🔰✿ـــــــــــــــــ◆

📚📚✒صورت مسئولہ میں جواب یہ ہے کہ👇👇
👈پہلا بچہ چھوٹا ہو حاملہ ہوجانے سے عورت کا دودھ کم ہونے کا خطرہ ہو اور دودھ پلانے والی اجرت پر لینا بچے کے باپ کی وسعت میں  نہ ہو یا  ولادت کی وجہ سے ماں بہت  کمزور ہو گئی ہو یا بچے کو دودھ نہیں  پلا پاتی ہو یا اسی قبیل سے اور بھی اعذار ہو سکتے ہیں لہذا اگر عذر قابل قبول ہے تو ایسی صورت میں اسقاط حمل کرا سکتے ہیں 👇👇👇👇

👈اور اسقاط  حمل کے جواز کے اسباب  میں فقہاء کرام نے یہ سبب ذکر کیا ہے جیسا کہ علامہ حسن بن منصور اوزجندی اور علامہ طاہر بن عبد الرشید بخاری حنفی لکھتے ہیں 👇👇

  ◆ــــــــــــــــــ✿🔰✿ـــــــــــــــــ◆

📚✒المرضع اذا ظہر بھا الحبل و انقطع لبنھا و لیس لابی الصغیر ما یستاجر ھا بہ الظئر و یخاف ھلاک الولد  قالوا یباح لھا ان تعالج فی استنزل  الدم ما دام الحمل نطف او علق او مضغ لم یخلق لہ عضو الخ 👇👇

👈یعنی دودھ پلانے والی عورت کو جب حمل ظاہر ہو جائے اور اس کا دودھ ظہور  حمل کی وجہ سے منقطع  ہو جائے اور بچے کے باپ کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ جس سے دودھ پلانے والی کرائے پر لے سکے اور بچے کے ہلاک ہونے کا خوف ہو تو فقہاء کرام نے فرمایا جب تک حمل نطفہ یا بستہ خون  یا گوشت کا لوتھڑا ہے اور ابھی تک اس کے اعضاء  نہیں بنے تو عورت کے لئے خون جاری کرنے کے لئے علاج کروانا مباح ہے 👇👇

  ◆ــــــــــــــــــ✿🔰✿ـــــــــــــــــ◆

📚✒فتاوی قاضی خان جلد 3 صفحہ نمبر 410

👆اور خلاصۃ الفتاوی جلد 2 صفحہ نمبر 52 📒

📚🖊اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی لکھتے  ہیں و قال ابن و ھبان و من الاعذار ان ینقطع لبنھا بعد ظہور الحمل و لیس لابی الصبی ما یستاجر بہ الظئر و یخاف ھلاکہ 👇

👈یعنی ابن وہبان نے فرمایا عذروں  میں سے یہ ہے کہ حمل ظاہر ہونے کے بعد عورت کا دودھ منقطع ہو جائے اور اس کا پہلے سے چھوٹا بچہ ہو اور بچے کے باپ کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ جس سے بچے کے لئے دودھ پلانے والی کرائے پر لے سکے اور بچے کی ہلاکت کا خوف ہو 👇👇

📚✒ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب النکاح باب نکاح  الرفیق ۵۸۶/۸

  ◆ــــــــــــــــــ✿🔰✿ـــــــــــــــــ◆

📚✒اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر ابھی بچہ نہیں بنا جائز ہے ورنہ ناجائز کہ بے گناہ کا قتل ہے اور چار مہینے میں بچہ بن جاتا ہے

📘🖊فتاویٰ رضویہ جلد 9 نصف آخر صفحہ نمبر 151

🗞🖋اور فرماتے ہیں کہ جان پڑ جانے کے بعد اسقاط حمل حرام ہے اور ایسا کرنے والا گویا قاتل ہے اور جان پڑنے سے پہلے اگر کوئی ضرورت ہو تو حرج نہیں صفحہ نمبر 260

📒✏لہذا اگر ضرورت ہو تو چار مہینے سے پہلے حمل گرانا جائز ہے

📋 فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ نمبر 331

خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذکورہ بالا مسئلے میں حمل ساقط کرسکتے ہیں

  ◆ــــــــــــــــــ✿🔰✿ـــــــــــــــــ◆

اللہ تبارک وتعالی ہم تمامی حضرات کو اہلسنت والجماعت المعروف مسلک اعلی حضرت پر قائم و دائم رکھے آمین

  ◆ــــــــــــــــــ✿🔰✿ـــــــــــــــــ◆
     
     *(🌺واللہ اعلم بالصواب🌺)*

*✍ کتبہ: ابو محمد بدرالکمال رضا، جلال الدین احمد امجدی رضوی نائےگائوں ضلع ناندیڑ  مہاراشٹرا مدرس جامعہ قادریہ رضویہ ردرور منڈل ضلع نظام آباد تلنگانہ الھند ـ*
*(بتاریخ ۹/ مارچ  بروز  ہفتہ    ۲۰۱۹/ عیسوی)*
*( موبائل نمبر 📞8390418344📱)*

  ◆ــــــــــــــــــ✿🔰✿ـــــــــــــــــ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غیرمسلم کے ساتھ اس کے گھر کھانہ کھانا کیسا ہے

أم معبد رضي الله عنها كى بکری سے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دلچسپ معجزہ