انبیاء کِرام کے پیشے

انبیاء کِرام کے پیشے

ہرنبی نے کوئی نہ کوئی حلال پیشہ ضرورکیا۔

آدم علیہ السلام نے اولاً کپڑا بُننے کا کام  کیا اور بعد میں آپ کھیتی باڑی میں مشغول ہوگئے ۔ ہر قسم کے بیج جنت سے ساتھ لائے تھے ان کی کاشت فرماتے تھے ۔

نوح علیہ السلام کا ذریعہ معا ش لکڑی کا کام تھا (بڑھئی پیشہ) ۔

ادریس علیہ السلام درزی گری فرماتے تھے۔

حضرت ہود اورصالح علیہما السلام تجارت کرتے تھے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مشغلہ کھیتی باڑی تھا ۔

حضرت شعیب علیہ السلام جانور پالتے اور ان کے دودھ سے معاش حاصل کرتے تھے ۔

لوط علیہ السلام کھیتی باڑی کرتے تھے ۔

موسیٰ علیہ السلام نے چند سال بکریاں چرائیں ، داؤد علیہ السلام  زِرہ بناتے تھے۔

سلیمان علیہ السلام اتنے بڑے با شاہ ہو کر درختو ں کے پتو ں سے پنکھے اورزنبیلیں بنا کر گزر فرماتے تھے ۔

عیسیٰ علیہ السلام سیر وسیاحت میں رہے ، نہ کہیں مکان بنایا ، نہ نکاح کیا اور فرماتے تھے کہ جس نے مجھے ناشتہ دیا ہے وہ ہی شام کا کھانا بھی دے گا۔

حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ سلم نے بکریاں بھی چرائی ہیں اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مال کی تجارت بھی فرمائی۔

غرض ہر قسم کی حلال کمائیاں سنت انبیاء ہے لہذ ا اس کو عار جاننا بے وقوفی  ہے ۔

( تفسیر نعیمی، تفسیر عزیزی)
[ اسلامی زندگی ، ص:142 ، مدینہ لائبریری ، دعوت اسلامی]

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غیرمسلم کے ساتھ اس کے گھر کھانہ کھانا کیسا ہے

أم معبد رضي الله عنها كى بکری سے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دلچسپ معجزہ